ہمارے علما اور اسلام

میرا ایک دوست تھا، عابد نواز. ہم ١٩٩٩ میں نویں جماعت میں ایک ساتھ بیٹھے تھے. افغانستان پر امریکا کروز میزائلوں کا حملہ کر چکا تھا. عابد نواز بہت پرجوش تھا اور کہا کرتا تھا کی ہم لوگ ڈنڈوں سے امریکی ٹینکوں کا برا حال کر دیں گے. میں خود اس کی اس طرح کی باتیں سن کر ہنستا بھی تھا اور اس کی عقل پر افسوس بھی کرتا تھا. 

آج جب میں سوچتا ہوں تو مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دینی طبقہ اور ہمارے علما  بھی دنیا سے بلکل اسی طرح بے خبر ہیں. وہ اسلام کو نافذ کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن وہ اسلامی نظام کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں. ہمارے علما اسلامی معاشی نظام اور موجودہ سرمیدارانہ نظام میں کوئی فرق نہیں جانتے. ہمارے علما موجودہ کرنسی کے نظام اور متبادل اسلامی نظام سے بلکل لاعلم ہیں.

میں چند مدّت سے قرض اور اس پر افراط زر کے اثرات پر سوچتا رہتا ہوں. میں نے چند علما سے اس مطلق بات بھی کی لیکن وہ جو جواب دیتے ہیں وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے. ہمارے علما کفر اور سرمیدارانہ نظام کے ٹینک کو اپنی لاعلمی کے ڈنڈوں سے توڑنا چاہتے ہیں اور پچھلے ایک صدی سے عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں.